My Urdu Blog: میرا اُردُو ب‍لاگ

Tuesday, January 24, 2006

My Experiences in Gym

جِم میں ہمارے اَنُبھو

آجکل یُواّوں میں جِم جانے کا بڑا کریز ہے۔ ہمارے پِتاجی بتاتے ہیں کِ پہلے اَکھاڑے ہُآ کرتے تھے، جہاں بڑے-بڑے پہلوان کُش‍تی لڑتے تھے۔ ہاںلاکِ آجکل یے اَکھاڑے پُوری ترہ لُپ‍ت ہو چُکے ہیں اؤر کھوجنے پر بھی نہیں مِلتے۔

کھیر، مُہل‍لے کے دُوسرے لڑکوں اؤر دوس‍توں کو جِم جاتے دیکھکر ہمیں بھی باڈی بِل‍ڈِںگ کا شؤک چرّایا، سو اَپنے کمرے میں اَرنول‍ڈ ش‍وارزینیگر کا پوس‍ٹر چِپکایا اؤر ہم بھی چل دِیے جِم کی اور پہلوانی کرنے۔ جِم کا نزارا اَدبھُت ہوتا ہے۔ آپکو ہر ترہ کے لوگ جِم میں دیکھنے کو مِل جاّیںگے۔ بہُت سے گول-مٹول لوگ سلمان کھان بنّے کا سپنا ساکار کرنے کی کوشِش میں لگے دِکھائی دیتے ہیں۔ کئی سارے سیکڑی پہلوان اِس آس میں کسرت کرتے دِکھائی دِیے کِ جل‍د ہی وے اَرنول‍ڈ ش‍وارزینیگر بن جاّیںگے۔ اِنکی سبسے بڑی کھُوبی یہ ہے کِ زرا سی تاریپھ کی نہیں کِ پھُول کے کُپ‍پا ہو جاتے ہیں - اَرے، چور باڈی ہے برُوسلی کی ناںئی۔ دیکھنے میں زرُور دُبلے-پتلے ہیں، لیکِن تاکت ایسی کِ زمین میں لات مار دیں تو پانی کا پھُو‍وارا پھُوٹ پڑے۔ - بس اِتنا کہنے کی دیر ہے اؤر لو، اَپنے مُںہ مِیاں مِٹّھُو ہو گیے چالُو - اَرے نہیں، اَب تو باڈی ڈاُّن ہو گیی ہے۔ تین مہینے پہلے دیکھتے، مُہل‍لے کے لؤںڈے دیکھکر تھر-تھر کاںپتے تھے، ایسی باڈی تھی۔ کالیج میں اَپنا ٹیرر تھا۔ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ اؤر پھِر کسرت بن‍د اؤر آت‍مپرشںسا کا اَنلِمِٹیڈ س‍ٹاک کھُل گیا سمجھو۔ ہاںلاکِ اِن‍ہیں دیکھکر آپکو ایسا لگ سکتا ہے کِ کہیں ہوا تیز چل رہی ہو تو گِر ن جائے بیچارا۔ جِم سے نِکلنے کے باد آگرا کی تںگ گلِیوں میں یے سینا چؤڑاکر اِس ترہ چلتے ہیں کِ آنے-جانے والے دُوسرے لوگ اِنکے نِکلنے کا اِن‍تزار گلی کے باہر کھڑے رہ کر ہی کرنا پسن‍د کرتے ہیں۔

پھِر ہمیں ایک بات یہ دیکھنے کو مِلی کی وہاں ہر کوئی وِشیشجن تھا، بھلے ہی اُسنے آپسے بس دو دِن پہلے ہی کسرت کرنا شُرُو کی ہو۔ جیسے پہلے کہاوت تھی کِ وہی مُنِ ہے، جِسکا مت (درشن) بھِنن ہو; ویسے ہی یہاں آکر پتا چلا کِ وہی سچ‍چا پہلوان ہے، جِسکے کسرت کرنے کا ‘اِش‍ٹائیل’ زرا ہٹ کر ہو۔ سیںکڑی پہلوان بِنا پُوچھے ہی آپکو آکر سمجھاّیگا - اَرّ۔ّ۔ یے ک‍یا کر رہے ہو۔ یے تریکا گلت ہے، اِسّے بائیسیپ‍س پر پُورا پریشر نہیں آتا۔ ڈم‍بل کو آدھا اُوپر لاّو، تین گِنّے تک روکو اؤر پھِر نیچے لے جاّو۔ رُس‍تم-ئے-ہِن‍د آپکو آکر سمجھاّیںگے - وو تو #$%@^& ہے۔ پہلے ڈم‍پھل (یے پہلوان جی ایسا ہی بولتے ہیں) کو چھاتی تک اُوپر لاّو اؤر بِنا رُکے تُرن‍ت نیچے لے جاّو۔ ‘جِتنے مُںہ اُتنی باتیں’ اِس کہاوت کا ک‍یا متلب ہے، یہاں آکر ہمیں پتا لگا۔

پھِر جِم میں گھُستے ہی ترہ-ترہ کی ہُںکار سُنائی پڑتی ہیں، ہاںلاکِ باد میں ہمیں اِسکی آدت ہو گیّ۔ ویسے یے شودھ کا وِشے ہو سکتا ہے کِ کؤن کب کیسی آواز پیدا کرتا ہے۔ بیںچ پریس کے وک‍ت - ہُآ۔ّ۔ّ۔، کرلِںگ کے وک‍ت - اِیا۔ّ۔ّ۔ّ، پیکڈیک کے سمے - اُہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ وگیرہ وگیرہ۔ اَکھاڑے بن‍د ہونے کی وجہ سے آس-پاس کے گاںو کے کئی لوگ بھی جِم میں آتے ہیں; یے لوگ کسرت کرتے سمے جے بجرںگبلی کی، جے کالی میّا کی جیسے نِناد بھی کرتے ہیں۔ ویسے کتئی زرُوری نہیں ہے کِ کسرت کرتے وک‍ت کِسی ترہ کی آواز کی ہی جائے، لیکِن ہماری جِم کی پرم‍پرا کو کایم رکھنے کے لِیے ہمنے بھی اِس کولاہل میں اِزاپھا کرنا شُرُو کر دِیا۔

ہاںلاکِ ہمسے ایک بڑی بھاری بھُول ہو گیّ، وو یہ کِ ہمنے کسرت کے ساتھ س‍ٹریچِںگ نہیں کی (اِسّے پہلے جو کُچھ لِکھا ہے، سب چھوٹی سی بھُومِکا ہے اؤر یہ اُپسںہار ہے)۔ جِسکا پرِنام یہ ہُآ کِ ہماری ماںسپیشِیاں چھ:-آٹھ مہین میں ہی زرُورت سے زیادا سکھ‍ت ہو گیّں اؤر ڈاک‍ٹر نے کم سے کم دو ہپھتے تک جِم جانے کو منا کر دِیا۔ اَب دونوں ہاتھوں اؤر کن‍دھے پر پٹِّیاں بںدھی ہُئی ہیں اؤر ہم یے پوس‍ٹ ٹائیپ کرنے کے اَلاوا اؤر کوئی کایدے کا کام نہیں کر سکتے۔ ہاں، اِس بارے میں لوگوں کو ہم یے بتاتے ہیں کِ، ‘‘کالیج میں زرا مار-پیٹ ہو گیی تھی; سو یے پٹِّیاں بن‍دھ گیی ہیں۔ دیکھو، کیول ہاتھوں میں ہی بن‍دھی ہیں چیہرے پر ایک بھی نِشان نہیں ہے; ک‍یوںکِ ہمنے کیول دُوسروں کی مار لگائی، پِٹے زرا بھی نہیں۔ کالیج میں اَب ہمارا بھی ٹیرر ہے۔’’

1 Comments:

  • acha ji - mujhe maloum nahi tha ke aap urdu bhi likhte hain - khair bahut khushi huwi aap ki urdu padhker - aur mere blog per hindi seekhne kaa link dene ka bhi shukriya.

    By Blogger Shuaib, at 11:43 AM  

Post a Comment

<< Home