ٹھنڈا متلب۔ّ۔؟
جب یہ پہیلینُما سوال ہمنے اَپنے دو دوستوں سے کِیا، تو ایک نے کہا ‘کوکاکولا’ اؤر دُوسرے نے کہا ‘ٹایلیٹ کلینر’۔ یہ تو ہم جانتے تھے کِ اَپنا بھیکھُو ایشوریا کا پںکھا ہے، اِسلِئے کوکاکولا کہ رہا ہے۔ لیکِن بابا رامدیو کے کپالبھاتِ کی ہوا ناک کے زرِئے پیٹ سے ہوتے ہُئے بنواری کے بھیجے میں گھُس چُکی ہے، اِسّے ہم واکِف نہیں تھے۔
خیر، ہمنے بنواری کا پکش لیتے ہُئے بھیکھُو کو سمجھانا چاہ - اِسمیں کیٹناشک ہوتے ہیں، اِسلِئے پیپسی-کولا نہیں پینی چاہِئے۔ بنواری بھی بولا، ‘ٹایلیٹ’ میں ڈالنے سے ٹایلیٹ بِلکُل ساف ہو جاتی ہے۔ اِسپر بھیکھُو نے اَپنا اَکاٹے کُترکپُورن جنان جھاڑا - ‘ٹھنڈا پینا بہُت زرُوری ہے۔ سبسے پہلے تو اِسکی خاس وجہ یہ ہے کِ ایشوریا اؤر آمِر، کرینا اؤر شاہرُخ سب-کے-سب ٹھنڈا پینے کو کہتے ہیں۔ پرِیںکا چؤپڑا کہتی ہیں کِ چُوںکِ وے پیپسی کو ایںڈورس کرتی ہیں، اِسلِئے پیپسی تو پینی ہی چاہِئے۔ اَگر ٹھنڈا پینا بند کر دِیا، تو اِن سبکے پیٹ پر لات پڑیگی۔ اِسکا پاپ کِس پر پڑیگا، بابا رامدیو سے پُوچھکر بتاّو تو بھلا؟ دُوسرا فایدا یہ ہے کِ اِسمیں جو کیٹناشک ہے، اُسّے پیٹ میں کیڑے نہیں پڑتے اؤر یے بہُت سیہتمںد تو ہے ہی، جیسا کِ بنواری نے کہا اِسّے ٹایلیٹ اِکدم ساف ہوتی ہے - پیٹ کھُل جاتا ہے ۔۔ّ۔۔ آہّہا۔’ یہ کہتے-کہتے اُسنے اَپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، پیٹ کھُلنے سے پراپت سنتُشٹِ کا بھاو اُسکے چیہرے پر ساف جھلک رہا تھا۔
لیکِن ہم بھی بہُت اَڈِیل کِسم کے ہیں، ایسے کہاں مانّے والے تھے۔ سو ہم بولے - ‘دیکھو بھئی، کِسان اِس دیش کا آدھار ٹھیک اُسی ترہ ہیں جِس ترہ لٹُّو کا آدھار اُسکی نُکک ہوتی ہے۔ کوک-پیپسی والے بھُومِگت جل کا دوہن بھاری ماترا میں کر کِسانوں کو نُقسان پہُںچا رہے ہیں، جِسّے بیچارے کِسانوں کو کھیتی-باڑی چھوڑنی پڑ رہی ہے۔’ اِسپر بھیکھُو بولا - بھیّا، پچاس خبرِیا چینل دِن رات گلا پھاڑ چِلّاچوٹ مچاتے رہتے ہیں، کِسی ایک-آدھ کو تو دیکھ لِیا کرو۔ تُمہیں مالُوم نہیں کِ کرشِ مںتری شرد پوار نے کیا کہا ہے۔ اُنّے کہا ہے کِ ‘‘کھیتی-باڑی میں زرُورت سے زیادا لوگ لگے ہیں، اِسیلِئے کرشِ کا بُرا ہال ہے۔ جِتنے زیادا کِسان کھیتی-باڑی چھوڑ کر دُوسرے دھںدھے کریںگے، اُتنی ہی کرشِ کی اُنّتِ ہوگی۔ اِسلِئے پیپسی-کوک پر پابںدی کی بات سوچنا بھی غلت ہے۔’’ بھیکھُو نے بولنا جاری رکھا - سُنا تُمنے، تُمّیں زیادا اَقل ہے یا دیش کے کرشِ مںتری میں؟ تُمسے کبڈّی بھی ڈھںگ سے نہیں کھیلی جاتی، کبڈّی-کبڈی۔ّ۔ کے بیچ میں ہی ساںس ٹُوٹ جاتی ہے اؤر یے آدمی دیش کی کھیتی-باڑی اؤر کرِکیٹ، دونوں اِکِّلا سمہال رہا ہے۔ بُوڑھاپے میں بھی ساںس ہے کِ ٹُوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ اَب بتاّو کِسکی بات میں دم ہے؟ ہم نِرُتّر تھے اؤر بنواری تو پہلے سے ہی اَناسکت سِدّھ کی بھاںتِ ہماری اِس چرچا پر غؤر نہیں کر رہا تھا۔ اُسکا سارا دھیان نُکّڑ پر شُونے سے پرکٹ ہو شُونے میں ہی وِلین ہو رہی اَپسراّوں پر تھا۔
یے دیش اؤر اِسکی جنتا کُچھ ایسی ہی ہے۔ اَب کیا کریں ہم اِسمیں؟ یہاں سوامی رامدیو پر شرد پوار ہمیشا بھاری سابِت ہوتے ہیں۔ سو ہم اؤر بنواری گرم دُودھ پینے آگرا کے مشہُور ہیرا ہلوائی کی دُکان کی اور چل دِئے اؤر بھیکھُو کھوکھے والے سے ایک اؤر کوک لیکر بھوگ لگانے لگا۔

0 Comments:
Post a Comment
<< Home