Ye World Hai Na World...
یے ورلڈ ہے ن ورلڈ۔ّ۔
یے ورلڈ ہے ن ورلڈ، اِسمیں دو ٹائیپ کے لوگ ہوتے ہیں – پہلے، جو کہتے ہیں کِ اَفزل کو پھاںسی دو اؤر دُوسرے وو جو کہتے ہیں کِ پھاںسی مت دو۔ تو بھیّا، پہلے ٹائیپ میں تو لگبھگ سارا اِنڈِیا آتا ہے، لیکِن دُوسرے ٹائیپ میں غُلام نبی آزاد، فارُکھ اَبدُلّاہ سمیت کشمیر کے کئی راجنیتا اؤر وامپنتھی آتے ہیں۔ لیکِن ایک تیسرا ٹائیپ بھی ہے – جیسے میل اؤر فیمیل کے اَلاوا ‘ہاے-ہاے’ کی تیسری کیٹیگری ہوتی ہے، اُسی ترہ پہلے کہے گئے دو ٹائیپوں کے اَلاوا اِس ماملے میں بھی ‘ہاے-ہاے’ والا ایک تیسرا ہی ٹائیپ بھی ہے اؤر اِس ٹائیپ میں کاںگریس آتی ہے۔ جِسے یہ نہیں مالُوم کِ اُسکا ۔۔۔ کیا ہے۔ اَرے بھیّا، کیا سوچنے لگے؟ ہم کہ رہے ہیں کِ اُسے یہ نہیں مالُوم کِ اُسکا ‘سٹینڈ’ کیا ہے؟
آپ لوگوں نے پںچتںتر نہیں پڑھی ڈھںگ سے، اُسمیں ایک کہانی ہے۔ چلِئے ہم ہی بتائے دیتے ہیں۔ تو ہُآ یُوں کِ ایک بار پراچین اِندرپرستھ یانِ کی ورتمان دِلّی میں گِرگِٹوں اؤر کاںگریسِیوں کے بیچ رںگ بدلنے کا بڑا بھاری کمپٹیشن ہُآ۔ گِرگِٹوں نے جیتنے کے لِئے جان لڑا دی، لیکِن اَنتت: وہی ہُآ جو وِدھِ کو مںزُور تھا۔ متلب کِ کاںگریسِیوں نے بازی مار لی اؤر تب سے آج تک کوئی بھی رںگ بدلنے میں کاںگریسِیوں کا مُقابلا نہیں کر سکا ہے۔ لیکِن یے کاںگریسی گِرگِٹوں سے ایک نہیں بلکِ کئی قدم آگے ہیں۔ گِرگِٹ کیول رںگ بدلنا جانتا ہے، لیکِن کاںگریسی رںگ کے ساتھ-ساتھ سُر بدلنا بھی جانتے ہیں – کشمیر میں کوئی سُر اؤر دِلّی میں کُچھ اؤر۔ ہالاںکِ دُوسرے دلوں کے راجنیتاّوں نے بھی کاںگریسِیوں سے اِس گُن کو گرہن کِیا ہے، لیکِن ‘اِز رِجِنل’۔ بلاگر بیٹا آنے کے باد سے جِس ترہ بلاگ کی فیڈ پتا لگانا مُشکِل ہو گیا ہے، ٹھیک اُسی ترہ راجنیتاّوں کی جات بھی سمجھو۔ ہاں، تھوڑا-سا غؤر کرنے پر دونوں پتا پڑ جاتے ہیں۔ ستّا میں اِنکی جات کُچھ اؤر ہوتی ہے، وِپکش میں کُچھ اؤر۔ اَب فارُوخ اَبدُلّاہ ساہب کو ہی لے لیجِئے; اَبھی کل ہی ایک کاریکرم میں تیش میں چیکھ رہے تھے – ‘اَگر سزا ماف نہیں ہُئی تو کشمیر جل اُٹھیگا۔ آپکو (ٹیوی کاریکرم میں اُپستھِت اُنے سجّنوں کو) کُچھ بولنے کا ہق نہیں ہے، کشمیر والے ہی وہاں کے ہالات سمجھ سکتے ہیں۔’ واہ بھئی، واہ۔ّ۔ کشمیر پہلے ‘شِوپالگںج’ تو تھا ہی، سب وہاں جانے سے گھبراتے تھے۔ لیکِن اَب ایسا لگتا ہے کِ کشمیر کے بارے میں بولنے سے بھی گھبرانے لگیںگے۔
اَب بات کرتے ہیں سروپرِے وامپنتھِیوں کی۔ ویسے، اِتنا تو مانّا پڑیگا کِ یے وامپنتھی بہُت ہی سِدّھانتوادی لوگ ہوتے ہیں۔ چاہے کُچھ ہو جائے، بُش اؤر لادین میں دوستی ہو جائے، سپا اؤر کاںگریس یُوپی میں پھِر گٹھبںدھن کر لیں، مودی اؤر لالُو ٹرین کے ایک ہی ڈِبّے میں بیٹھکر بھارت کی پرِکرما کریں، دُنِیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے – یے وامپںتھی اَپنے سِدّھانت نہیں چھوڑتے۔ اَب آپ ہی دیکھِئے کِ آزادی سے پہلے بوس کو توجو کا کُتّا کہنا، بھارت چھوڑو آندولن کا وِرودھ کرنا وگیرہ وگیرہ اِنکی سِدّھانت-نِشٹھا کے اَنگِنت اُداہرن ہیں۔ لیکِن سِدّھانتنِشٹھا ہو تو ایسی، آزادی کے باد بھی اَپنے سِدّھانتوں پر بدستُور چلتے رہے اؤر آج بھی اُنپر قایم ہیں۔ آج بھی اَپنی وِچاردھارا پر چلتے ہُئے اَفزل کی پھاںسی ماف کرنے کا سمرتھن کر رہے ہیں۔ ہمکو تو یہ لگتا ہے بھیّا، کِ اَگر وامپںتھِیوں کی کیندر میں سرکار ہوتی تو کشمیر کو چمکتی لال پنّی میں ریپ کر اؤر اُسپر ‘ٹُو پاکِستان وِتھ لو – وامپنتھیز’ کی چِپّی چِپکا کر اُسے پاکِستان کو بھیںٹ کر دیتے۔
لیکِن یے ورلڈ ہے ورلڈ، یہاں ہمیشا دو ترہ کے لوگ ہوتے ہیں – ایک وامپںتھی ہیں تو دُوسرے راشٹروادی بھی ہیں۔ اِسلِئے کُچھ بچا-کھُچا کشمیر اَبھی تک ہِندُستان میں ہے۔ لیکِن ہر بار کی ترہ اِس بار بھی تیسرے ترہ کے لوگ بھی ورلڈ میں پائے گئے ہیں – مانوادھِکاروادی۔ جِس ترہ پتںگے وگیرہ سِرف برسات میں ہی نزر آتے ہیں، ٹھیک اُسی ترہ یے لوگ بھی کیول تبھی دِکھائی دیتے ہیں جب کِسی آتںکوادی کو سزا ہو رہی ہو۔ سینا اؤر پُلِس والے مریں تو مریں اَپنی بلا سے، لیکِن مانوادھِکار والوں کے کانوں پر جُو تک نہیں ریںگتی ہے۔ یے لوگ آجکل یہ کہتے سُنے جا سکتے ہیں کِ کیپِٹل پنِشمیںٹ کی سزا مانو-اَدھِکاروں کے خ ِلاف ہے۔ تو ساہب، ہمارا اِن لوگوں سے کوئی وِرودھ نہیں ہے۔ بس اِتنی گُزارِش ہے کِ اِن لوگوں پر ‘مانوادھِکار’ شبد کُچھ جںچتا نہیں ہے، اِسلِئے اِسے بدلکر ‘آتںکوادی-اَدھِکار سںگٹھن’ کِیا جانا چاہِئے۔ ‘آتںکوادی-اَدھِکار سںگٹھن’ – اَہا! سُنّے میں کِتنا اَچّھا لگ رہا ہے، کرنپرِے، مدھُر، بِلکُل لتا مںگیشکر کی آواز کی ترہ۔ ہماری بس اِتّی سی گُزارِش ہے، مان لو مانوادھِکار والے بھائیّوں اؤر اُنکی بہنوں۔
آپ لوگ کہ سکتے ہو کِ سبکو گرِیا رہے ہو تو سرکار کو کاہے بخش دِیا بھلا؟ تو بھیّا، ہم رِکس نہیں لیںگے۔ لیکِن دِقّت یے ہے کِ سرکار کو نالایق کہنا کُچھ سُہاتا نہیں ہے، کوئی نیا لفز سُجھائیئے اَب۔ سرکار کے لِئے ‘نالایق’ شبد تو اَب cliché ہو گیا ہے۔ لگنا چاہِئے کِ کہنے والا کُچھ گہرے سوچ-وِچار کے باد گرِیا رہا ہے۔ ویسے بھی منموہن-مُشرّف تو ہیرا-موتی بیل ہیں۔ کُچھ بھی کر لیں، آخ ِر میں اَپنے مالِک بُش کے پاس پہُںچ جاتے ہیں۔ کہانی میں ڈیوِایشن بس اِتنا ہے کِ یہاں یے دونوں بیل آپس میں ہی جُوتم-پیجار کرکے ماملا سُلٹانے کے لِئے مالِک کے پاس جاتے ہیں۔ ہالاںکِ پاکِستان کے خ ِلاف سُبُوت لیکر منموہن جی در-در بھٹک رہے ہیں، لیکِن ہوتا-جاتا کُچھ نہیں ہے۔ّ۔ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اؤر کُچھ ہو بھی گیا، مان لو کِ پاکِستان نے داُّود وگیرہ کِسی کو بھارت کو سؤںپ دِیا، تو یہاں خوامخواہ سزا مافی کے لِئے بوںڈر ہوگا اؤر خبرِیا چینل والے اُسے 24x7 دِکھلانے لگیںگے اؤر ہم اَفزل کے باد ٹیوی پر پھِر وہی سب ٹارچر نہیں جھیل سکتے ایک بار پھِر۔

0 Comments:
Post a Comment
<< Home